اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری کا نام مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل کرنا غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ ہر پاکستانی شہری کو آئین کے تحت آزادانہ نقل و حرکت اور بیرون ملک سفر کا حق حاصل ہے۔ اگر کسی شخص کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا ضروری ہو تو متعلقہ اداروں کو قانون میں طے شدہ طریقہ کار، شواہد اور ضوابط پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ کسی بھی فرد کو مناسب قانونی جواز کے بغیر سفری پابندی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
عدالت نے مزید کہا کہ انتظامی فیصلے بھی آئین اور قانون کے تابع ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق کو محدود کرنے سے قبل شفاف اور منصفانہ طریقہ کار اپنانا لازمی ہے۔ عدالتی فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اختیارات کا استعمال قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہیے تاکہ کسی شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، جہاں شہریوں کے نام بغیر واضح قانونی بنیاد کے مختلف کنٹرول یا واچ لسٹس میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ریاستی اداروں کو ہر اقدام قانون اور آئین کے مطابق اٹھانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو تقویت ملے گی بلکہ سرکاری اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ عدالت کا یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کے اصولوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔