June 30, 2026

ایران پاکستان کی بندرگاہوں پر پھنسے 13 سے 18 ہزار کنٹینرز کی روانگی کا منتظر

ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں حالیہ کشیدگی اور لاجسٹک مسائل کے باعث ہزاروں کنٹینرز مختلف پاکستانی بندرگاہوں پر رکے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران اس وقت پاکستان کی مختلف بندرگاہوں پر موجود تقریباً 13 سے 18 ہزار کنٹینرز کی روانگی کا منتظر ہے، جن میں مختلف اقسام کا تجارتی سامان شامل ہے۔

تجارتی ذرائع کے مطابق ان کنٹینرز میں خوراک، صنعتی خام مال، تعمیراتی سامان، کیمیکلز اور دیگر درآمدی و برآمدی مصنوعات موجود ہیں۔ کنٹینرز کی بروقت کلیئرنس نہ ہونے سے دونوں ممالک کے تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بندرگاہوں پر اضافی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت دونوں ممالک کی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اگر کنٹینرز کی ترسیل میں تاخیر برقرار رہی تو سپلائی چین متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال سے مقامی صنعتوں کو درکار خام مال کی فراہمی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام بندرگاہوں پر موجود رکاوٹوں کو دور کرنے اور کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں تاکہ تجارتی سامان کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے اور تاجروں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ کسٹمز، بندرگاہی آپریشنز اور لاجسٹک نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ جدید ڈیجیٹل نظام، تیز رفتار کلیئرنس اور بہتر رابطہ کاری نہ صرف تجارتی رکاوٹیں کم کر سکتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ ادارے جلد اس معاملے کا حل نکالیں گے تاکہ بندرگاہوں پر موجود ہزاروں کنٹینرز اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *