June 30, 2026

وائرل تصویر واقعی حضرت عثمان غنیؓ کی قبرِ مبارک کی ہے؟ تاریخی حقائق سامنے آگئے

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویر نے حالیہ دنوں میں زائرین اور صارفین کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ اس تصویر کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ اسلام کے تیسرے خلیفہ، خلیفۂ راشد، دامادِ رسول ﷺ اور ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک کی ہے۔ اسلامی تاریخ اور مستند روایات کی روشنی میں اس دعوے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کی تدفین کے مقام سے متعلق تاریخی شواہد اس روایت کی تائید کرتے ہیں، تاہم کسی مخصوص تصویر کی قطعی تصدیق صرف تاریخی معلومات کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔

تاریخی روایات کے مطابق حضرت عثمان غنیؓ کو سن 35 ہجری میں شہادت کے بعد مدینہ منورہ میں جنت البقیع سے متصل ایک باغ میں دفن کیا گیا، جسے “حشِ کوکب” کہا جاتا تھا۔ اس وقت یہ علاقہ جنت البقیع کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا۔

بعد ازاں اموی دورِ حکومت میں مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن الحکم نے جنت البقیع کی حدود کو وسیع کیا، جس کے نتیجے میں “حشِ کوکب” بھی قبرستان میں شامل ہو گیا۔ اسی وجہ سے آج حضرت عثمان غنیؓ کی قبرِ مبارک جنت البقیع کے آخری حصے میں واقع مانی جاتی ہے۔

جنت البقیع کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہاں موجود صحابۂ کرامؓ، اہلِ بیتِ اطہارؓ اور امہات المؤمنینؓ کی قبور پر نہ مزارات تعمیر کیے گئے ہیں، نہ گنبد اور نہ ہی ناموں کی نمایاں تختیاں نصب ہیں۔ یہ طرزِ عمل اسلامی تعلیمات میں سادگی اور قبروں پر غیر ضروری تعمیرات سے اجتناب کی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔

حضرت عثمان غنیؓ کی قبرِ مبارک سمیت کئی قبور کی شناخت کے لیے سادہ پتھروں کو بطور نشانی رکھا گیا ہے، جو صدیوں سے اسلامی سادگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

اگرچہ تاریخی اعتبار سے حضرت عثمان غنیؓ کی تدفین کا مقام جنت البقیع کے اسی حصے میں تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر تصویر کی آزادانہ اور قطعی تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسی تصاویر کو مستند تاریخی معلومات کے ساتھ ہی دیکھنا چاہیے اور غیر مصدقہ دعوؤں کو تحقیق کے بغیر آگے پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *