ملک بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر متعلقہ اداروں نے شمالی اور بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood – GLOF) کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو سکتی ہے۔
الرٹ کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں اور دیگر بالائی اضلاع میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ان حالات میں مقامی آبادی، سیاحوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں گلیشیئر تیزی سے سکڑ رہے ہیں، جبکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں بلکہ انفراسٹرکچر، زرعی زمینوں اور مواصلاتی نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکام نے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور مقامی کمیونٹیز کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حساس علاقوں میں نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو بھی غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، ماحول کے تحفظ اور بروقت وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کا تعاون اور احتیاطی تدابیر پر عمل کسی بھی ممکنہ نقصان کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔