June 30, 2026

برطانوی ایوی ایشن ٹیم پاکستان پہنچ گئی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس کا سیفٹی آڈٹ شروع

برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم لاہور اور اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کا سیفٹی آڈٹ کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہے۔ اس دورے کو پاکستان کی فضائی صنعت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان ایوی ایشن شعبے میں تعاون مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق برطانوی ماہرین ایئرپورٹس پر سیکیورٹی انتظامات، مسافروں کی اسکریننگ، سامان کی جانچ، ایئرپورٹ آپریشنز، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام اور بین الاقوامی حفاظتی معیار پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ ٹیم اپنے دورے کے دوران مختلف شعبوں کے حکام سے ملاقاتیں بھی کرے گی اور حفاظتی نظام کا عملی معائنہ کرے گی۔

پاکستان سول ایوی ایشن کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک کے بڑے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی اور آپریشنل نظام کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ جدید اسکیننگ مشینوں، نگرانی کے نظام اور تربیت یافتہ عملے کی بدولت ایئرپورٹس کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق برطانوی ٹیم کا یہ آڈٹ مستقبل میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی روابط کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر آڈٹ کے نتائج مثبت رہے تو پاکستانی ایئرپورٹس پر بین الاقوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا، جس سے ملکی فضائی شعبے کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کو بھی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

یہ آڈٹ عالمی ایوی ایشن کے مقررہ حفاظتی معیارات کے مطابق کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ برطانوی ٹیم اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد متعلقہ حکام کو سفارشات بھی پیش کرے گی تاکہ جہاں بہتری کی ضرورت ہو وہاں مزید اقدامات کیے جا سکیں۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی معیار کے مطابق محفوظ اور جدید فضائی نظام کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اس طرح کے بین الاقوامی آڈٹس ملک کے ایوی ایشن سیکٹر کی ساکھ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *