June 30, 2026

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ: پاکستان ریلوے کو 61 ارب روپے سے زائد کا بھاری مالی نقصان

پاکستان ریلوے کو 61 ارب روپے سے زائد کے خالص مالی نقصان کا انکشاف آڈیٹر جنرل کی تازہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس نے قومی ادارے کی مالی کارکردگی اور انتظامی معاملات پر کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی بے ضابطگیوں، کمزور انتظامی فیصلوں اور وسائل کے غیر مؤثر استعمال کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریلوے کے مختلف شعبوں میں مالی نظم و ضبط کی کمی، واجبات کی عدم وصولی، غیر ضروری اخراجات اور بعض منصوبوں میں تاخیر نے ادارے کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ رپورٹ میں متعلقہ حکام کو ان بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

پاکستان ریلوے ملک میں لاکھوں مسافروں اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے یہ ادارہ مالی خسارے، پرانے انفراسٹرکچر اور انتظامی مسائل کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ادارے کی بہتری کے لیے شفاف مالی نظام، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

دوسری جانب ریلوے حکام کا مؤقف ہے کہ ادارے کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں، جن میں آمدنی بڑھانے، آپریشنل اخراجات کم کرنے اور نئی ٹرین سروسز متعارف کرانے کے منصوبے شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آڈیٹر جنرل کی سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے اور مالی شفافیت کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان ریلوے کو دوبارہ منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف قومی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ عوام کو بھی بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *