دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی بھی ملک کو اس پر ٹول یا اضافی فیس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ان کے اس بیان نے خطے میں جاری سیاسی اور معاشی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اس راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایسی آبی گزرگاہیں تمام ممالک کے لیے کھلی ہوتی ہیں اور ان پر آزادانہ بحری آمدورفت کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ طور پر ٹول، فیس یا دیگر پابندیاں عائد کرنا بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور وہاں جہاز رانی کے مستقبل کے بارے میں مختلف خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر اس اہم آبی راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی ایک اہم شاہراہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے پر زور دیتی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو عالمی برادری میں اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی حمایت اور آزادانہ جہاز رانی کے اصول کی توثیق کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تمام فریق بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تجارت کو بلا تعطل جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مجموعی طور پر آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے اس آبی گزرگاہ کی سلامتی، کھلا پن اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق استعمال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا حالیہ بیان اسی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی آبی راستوں پر آزادانہ نقل و حمل عالمی مفاد کا تقاضا ہے۔