June 30, 2026

کیا فیفا کھیلوں میں سیاست کو فروغ دے رہا ہے؟ ایرانی کپتان کی جانب سے ورلڈ کپ سے اخراج اور ناانصافی پر ردعمل

عالمی فٹبال میں سیاست: کیا انصاف کا پیمانہ بدل گیا ہے؟

حال ہی میں ایرانی فٹبال ٹیم کے کپتان کی جانب سے امریکا پر لگائے گئے الزامات نے کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ محض ایک کھیل کا نہیں، بلکہ اس کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جو اکثر بین الاقوامی سیاست اور کھیلوں کے میدانوں کے درمیان کھڑی ہو جاتی ہے۔

ایرانی کپتان کا مؤقف صاف اور دو ٹوک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی سیاسی بنیاد پر یا کسی خاص دباؤ کے تحت ایران کو ورلڈ کپ سے باہر کرنا مقصود ہے، تو ایسا کر دیا جائے، لیکن کھیل کے میدان میں انصاف کے تقاضوں کو پامال نہ کیا جائے۔ ان کا اشارہ واضح طور پر ان غیر مرئی رکاوٹوں اور دباؤ کی جانب ہے جو اکثر کھلاڑیوں کی کارکردگی اور حوصلے کو متاثر کرتے ہیں۔

کھیل اور سیاست کا ٹکراؤ

کھیل کو دنیا بھر میں “امن کا سفیر” سمجھا جاتا ہے۔ فیفا (FIFA) کا منشور بھی یہ کہتا ہے کہ فٹبال سیاست سے بالاتر ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ جب بھی دو ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے، اس کا عکس فوری طور پر کھیلوں کے میدان میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایران کے کپتان کا یہ مطالبہ کہ “ناانصافی نہ کی جائے،” دراصل ان تمام کھلاڑیوں کی آواز ہے جو سیاسی مہروں کے طور پر استعمال ہونے سے تنگ آ چکے ہیں۔

انصاف کی ضرورت

کسی بھی ٹیم کو ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے باہر کرنا ایک بڑا فیصلہ ہے۔ اگر یہ فیصلہ کھیلوں کی بنیاد پر ہو، تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن جب اس فیصلے کے پیچھے سیاسی محرکات ہوں، تو یہ کھیل کی روح کے خلاف ہے۔

آخر میں، کھیلوں کی تنظیموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کو شفاف رکھیں۔ اگر کھیل کے میدان کو سیاسی اکھاڑہ بننے سے نہ روکا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب دنیا کے سب سے مقبول کھیل سے شائقین کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ کھلاڑی صرف میدان میں اتر کر اپنے ملک کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں، انہیں سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *