پاکستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں، وزیراعظم کا حالیہ بیان ملک کے عزم اور قومی سلامتی کے حوالے سے ایک واضح پیغام ہے۔ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر بیرونی دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ یہ بیان نہ صرف دہشت گردوں کے لیے ایک انتباہ ہے بلکہ عوام کے لیے حکومت کے مضبوط ارادے کا اظہار بھی ہے۔
قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لعنت کا شکار رہا ہے، جس سے نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچا بلکہ کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کرنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہ کیا جائے۔ خاص طور پر سرحد پار سے ہونے والی مداخلت اور بیرونی پشت پناہی سے کی جانے والی دہشت گردی کا قلع قمع کرنا اب ریاست کی اولین ترجیح ہے۔
یکجہتی اور عزم کی ضرورت
دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ہے۔ وزیراعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ریاست، عوام اور ادارے ایک پیج پر نہیں ہوں گے، اس عفریت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن ملک کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں اپنے ناپاک عزائم میں ہرگز کامیابی نہیں ملے گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز اور سرحدی انتظام کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک بن کر ابھرنا چاہتا ہے جہاں معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔