کھیلوں کی دنیا میں جب بات عالمی ایونٹس کی ہو، تو وہاں صرف کھیل ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور مذہبی اقدار کا احترام بھی ایک بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں فیفا ورلڈ کپ اور دیگر بڑے فٹ بال مقابلوں میں ’پلیئر آف دی میچ‘ (Player of the Match) ٹرافی کے حوالے سے کی جانے والی ایک تبدیلی نے شائقینِ کرکٹ اور فٹ بال کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔
تبدیلی کا پسِ منظر
عام طور پر فٹ بال کے بڑے ٹورنامنٹس میں ‘پلیئر آف دی میچ’ ایوارڈ کی سپانسرشپ الکحل (شراب) بنانے والی کمپنیاں کرتی ہیں۔ اس وجہ سے ٹرافی پر ان برانڈز کا لوگو نمایاں ہوتا ہے۔ ماضی میں کئی ایسے مواقع آئے جب مسلم کھلاڑیوں نے اپنی مذہبی عقائد کی پاسداری کرتے ہوئے اس ٹرافی کو وصول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی، کیونکہ وہ کسی ایسی چیز کی تشہیر نہیں کرنا چاہتے تھے جو ان کے مذہب میں ممنوع ہے۔
فیفا کا مثبت اقدام
کھلاڑیوں کی ان مذہبی حساسیت کو سمجھتے ہوئے، فیفا اور متعلقہ انتظامیہ نے ایک انتہائی ذمہ دارانہ فیصلہ کیا ہے۔ اب، اگر کسی ایسے مسلم کھلاڑی کو ‘پلیئر آف دی میچ’ منتخب کیا جاتا ہے جو اپنے مذہبی عقائد کی بنیاد پر الکحل برانڈ کے لوگو والی ٹرافی لینے سے گریزاں ہو، تو اسے ایک خاص “ایڈٹ شدہ” یا ‘کلین’ ٹرافی دی جاتی ہے۔ اس ٹرافی سے متعلقہ سپانسر کا لوگو ہٹا دیا جاتا ہے، تاکہ کھلاڑی اپنی شاندار کارکردگی کا انعام کسی بھی قسم کی شرمندگی یا مذہبی کشمکش کے بغیر وصول کر سکے۔
یہ تبدیلی محض ایک ڈیزائن کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی کھیل کے ادارے اب کھلاڑیوں کی انفرادی اور مذہبی شناخت کا احترام کر رہے ہیں۔ جب ایک کھلاڑی میدان میں اپنے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اسے ملنے والا اعزاز اس کے لیے باعثِ فخر ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی بوجھ۔